رام جنم بھومی کا متولی نرموہی اکھاڑہ ہے،دوسرے ہندوفریقین کوبولنے کا حق نہیں۔وکیل کا عویٰ
نئی دہلی 26/اگست(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی گذشتہ دو ہفتوں سے جاری حتمی سماعت کا آج بارہواں دن تھا جس کے دوران نرموہی اکھاڑہ کے وکیل نے عدالت سے ایک بار پھرکہا کہ اس معاملہ میں مقدمہ دائر کرنے کا حق صرف نرموہی اکھاڑہ کو ہی ہے کیونکہ وہی اس کےSHEBIT یعنی کہ متولی ہونے کا حقیقی دعویدار ہے اور اسی کے قبضہ میں مورتی ہے نیز دیگر ہندو فریق کو اس تعلق سے بولنے کا حق نہیں ہے اس لئے رام للا کی جانب سے داخل کردہ اپیل قابل سماعت نہیں ہے،قابل ذکر ہے کہ جمعیۃعلماء ہند فریق اول کی حیثیت سے یہ مقدمہ لڑرہی ہے آج جب جمعیۃعلماء ہند لیڈمیٹرسول پٹیشن نمبر10866-10867/2010 پر بحث کے دوران جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ کنورادتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشامہر و دیگر موجود تھے۔باور ہوکہ جمعیۃعلماء ہند کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹرراجیودھون عدالت سے گزراش کرچکے ہیں کہ سب سے پہلے ہندوفریقین کے درمیان آپس میں جو تنازعہ ہے وہ اسے طے کرلیں اور اپنا حتمی موقف واضح کردیں اس کے بعد ہی ہم اپنی بحث کا آغاز کریں گے۔ چنانچہ اب اسی تناظرمیں بحث ہورہی ہے۔ آج کی سماعت کے دوران اپنا دعوی ٰ پیش کرتے ہوئے نرموہی اکھاڑہ کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ایس کے جین نے عدالت کو بتایا کہ عرضداشت میں تحریر ہندو لفظ سے مراد نرموہی اکھاڑہ ہی ہے کیونکہ وہ اس متنازعہ اراضی کا متولی ہے اور رام چبوترا ہمیشہ سے ان کے قبضہ میں ہی تھا۔اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو ایڈوکیٹ ایس کے جین نے مزید بتایا کہ صرف نرموہی اکھاڑہ کے پاس ہی دستاویزات پر مشتمل ثبوت و شواہد ہیں جس کے مطابق ہندو یعنی کے نرموہی ہے۔اسی درمیان جسٹس بوبڑے نے ایڈوکیٹ ایس کے جین سے دریافت کیا کہ وہ عدالت سے کیا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ وہ انتظامی امور کی ذمہ داری اور حق چاہتے ہیں نیز پوجا نرموہی اکھاڑہ کے ذریعہ ہی انجام دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس اراضی کا قبضہ رام للا اور رام للا کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی شخص کو نہیں دینا چاہئے کیونکہ اس پوری اراضی پر صرف اور صرف نرموہی اکھاڑہ کا ہی حق ہے۔ایڈوکیٹ ایس کے جین کی جانب سے عدالت میں پیش کئے گئے چند دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد جسٹس بوبڑے نے کہا کہ اس سے ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ وہ اس اراضی کے متولی ہیں جس کے جواب میں ایس کے جین نے کہا کہ ان کے پاس ان کے دعوے کو تقویت دینے کے لیئے سیکڑوں دستاویزات تھے لیکن 1982 میں ڈکیتی کے وقت وہ سب ضائع ہوگئے لیکن فیض آبادگزیٹیر میں ان سب دستاویزات کاذکر ہے جسٹس ایس اے بوبڑے نے ایڈوکیٹ ایس کے جین سے دریافت کیا کہ آیایہ درست ہے کہ چبوترے پر مورتی نصب تھی جسے بعد میں اندرونی صحن میں منتقل کیا گیا تھا؟ ایس کے جین نے عدالت کو بتایاکہ تاریخی شواہد کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ 1528 میں متنازعہ عمار ت کی تعمیر ہوئی تھی لیکن اس بات کا کچھ بھی ثبوت نہیں ہے کہ اس وقت وہاں نماز ادا کی جاتی تھی نیز ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے کہ نرموہی اکھاڑہ نے کبھی رام کی مورتی کے خلاف قدم اٹھایا ہویعنی کے وہ ہمیشہ سے ہی مورتی کے انتظامی امور انجام دیتے رہا ہے۔آج نرموہی اکھاڑ ہ کے وکیل ایس کے جین کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔